ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / چیف جسٹس گگوئی کو کلین چٹ

چیف جسٹس گگوئی کو کلین چٹ

Wed, 08 May 2019 10:57:57    S.O. News Service

نئی دہلی،8مئی(ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ کی انٹرنل جانچ کمیٹی نے چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی کو جنسی استحصال کے الزاموں پر کلین چٹ دے دی ہے- سپریم کورٹ کے دوسرے سینئر جج جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس اندرا بنرجی اور جسٹس اندو ملہوترا اس جانچ کمیٹی کی ممبر تھے-سپریم کورٹ کے جنرل سکریٹری کے ذریعے جاری ریلیز میں کہا گیا ہے کہ انٹرنل کمیٹی نے پایا کہ 19 اپریل 2019 کو سپریم کورٹ کی ایک سابق اسٹاف کے ذریعے لگائے جنسی استحصال کے الزاموں میں کوئی دم نہیں ہے-’سپریم کورٹ کی انٹرنل جانچ کمیٹی نے چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی کو جنسی استحصال کے الزاموں پر کلین چٹ دے دی ہے- واضح ہو کہ سپریم کورٹ کی ایک سابق ملازمہ نے سپریم کورٹ کے 22 ججوں کو خط لکھ کر الزام لگایا تھاکہ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی)جسٹس رنجن گگوئی نے اکتوبر 2018 میں ان کا جنسی استحصال کیا تھا-35 سالہ یہ خاتون عدالت میں جونیئر کورٹ اسسٹنٹ کے عہدے پر کام کر رہی تھیں - ان کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کے ذریعے ان کے ساتھ کئے‘ قابل اعتراض سلوک‘ کی مخالفت کرنے کے بعد سے ہی ان کو، ان کے شوہر اور فیملی کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے-گزشتہ 26 اپریل کو اس معاملے میں بنی جانچ کمیٹی کی پہلی میٹنگ ہوئی اور متاثرہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئی-اس کے بعد جسٹس رنجن گگوئی بھی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے-معاملے کی شنوائی شروع ہونے کے کچھ دن بعد متاثرہ نے انٹرنل کمیٹی کے ماحول کو ڈراؤنا بتاتے ہوئے کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا تھا-اس معاملے میں شکایت کرنے والی خاتون نے عدالت میں اپنے وکیل کی موجودگی کی اجازت نہیں دیے جانے سمیت کئی اعتراض کرتے ہوئے کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا-خاتون نے کہا کہ اس کو اپنی حفاظت کی بھی فکر ہے کیوں کہ عدالت کی کارروائی سے لوٹتے وقت دو سے چار لوگوں نے اس کا پیچھا کیا- اس معاملے کو لے کر جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے 3رکن کمیٹی کو 2 مئی کو خط لکھ کر ایک فل کورٹ شنوائی کی مانگ کی-جسٹس چندر چوڑ نے جانچ کمیٹی کا دائرہ بڑھانے کے لیے ایک بیرونی رکن کوبھی شامل کرنے کی مانگ کی-

اس کے لیے انہوں نے سپریم کورٹ کی ریٹائرڈ 3 خاتون ججوں کا نام بھی دیا تھا-اس سے پہلے انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ جسٹس نریمن کے ساتھ جسٹس چندرچوڑ نے گزشتہ ہفتہ جمعہ کو انٹرنل کمیٹی سے ملاقات کی تھی اور کہا تھا کہ شکایت گزار خاتون کی غیرموجودگی میں تفتیش جاری نہ رکھی جائے-حالانکہ، اتوار کو چیف جسٹس پر لگے جنسی استحصال کے الزامات کی جانچ کر رہی انٹرنل کمیٹی سے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس روہنگٹن نریمن کی ملاقات سے متعلق خبر کو خارج کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جنرل سکریٹری نے کہا تھا کہ جسٹس چندرچوڑ اور جسٹس نریمن نے انٹرنل کمیٹی اور جسٹس ایس اے بوبڈے سے ملاقات نہیں کی-اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انڈین ایکسپریس نے پیر کو کہا کہ دراصل یہ ملاقات جمعرات 2 مئی کو جنسی استحصال کے الزامات کی جانچ کے بارے میں لکھے گئے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کے خط پر گفتگو کرنے کو لیکر ہوئی تھی-ذرائع نے کہا کہ جسٹس چندرچوڑ کا خط کسی کے ذاتی نظریہ کو نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے ججوں میں پیدا ہوئے اختلاف کو دکھاتا ہے کیونکہ یہ خط 17 سے زیادہ ججوں کے ساتھ غیر رسمی صلاح کے بعد لکھا گیا ہے-واضح ہو کہ سپریم کورٹ میں فی الحال سی جے آئی رنجن گگوئی کو چھوڑکر 22 جج ہیں - اس میں سے تین جج تفتیش کمیٹی میں ہیں - وہیں، شروع میں تفتیش کمیٹی کا حصہ رہنے والے جسٹس این وی رمنا نے خاتون کی تحریری شکایت کے بعد خود کو سماعت سے الگ کر لیا تھا-


Share: